آرمی چیف جنرل باجوہ ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کر کےدنیاکی تاریخ ساز شخصیت بن گئے………………….۔۔کالم اندر کی بات…………………………..
:کالم نگار،اصغر علی مبارک …..آرمی چیف جنرل باجوہ نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں بطور مہمان خصوصی ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کرکے دنیاکی تاریخ ساز شخصیت کااعزاز حاصل کرلیاھے گزشتہ ایک صدی میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کرنے کا اعزاز کسی اور فوجی سربراہ کوحاصل نہیں ہوا. جس سےپاک فوج, ملک و قوم کے وقارمیں اضافہ ہوا ھے جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے پہلے سپہ سالار ہیں جنہو ں نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ (RMAS) برطانیہ میں منعقدہ 213 ریگولر کمیشننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی , جنرل قمر جاوید باجوہ برٹش ملٹری اکیڈمی میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔ جنرل باجوہ نے منعقد ہونے والی سوورین پریڈ فار کمیشنگ کورس 213 میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کی۔ سینڈھرسٹ ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ تقریب میں درجنوں ممالک کے فوجی سربراہان بھی شریک ہوئے پریڈ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اور ملٹری اتاشی کرنل رانا آصف خان بھی شریک ہوئے۔ تربیت مکمل کرنے والوں میں 208 برٹش کیڈٹس کے علاوہ 26 ممالک کے 41 انٹرنیشنل آفیسرز کیڈٹس بھی شامل تھے۔ سی سی 213 میں تربیت مکمل کرنے والوں میں 2 پاکستانی کیڈٹس مجتبیٰ احمد ملک اور کیڈٹ محمد عبداللہ بابر بھی شامل تھے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گہرے تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مستقبل میں تاریخی بلندیوں کو چھوئیں گے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ کی سینڈ ہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی میں ہونے والے 213 ریگولر کمیشننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے رائل ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اس تقریب میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی کیڈٹس کے علاوہ 41 غیر ملکی کیڈٹس بھی پاس آؤٹ ہو رہے ہیں، پاس آؤٹ ہونے والے تمام کیڈٹس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ’2 پاکستانی کیڈٹس بھی آج آپ کے ساتھ پاس آؤٹ ہوں گے اور میں کہنا چاہوں گا کہ مجھے آپ سب پر اتنا ہی فخر ہے جتنا مجھے ان دونوں پر ہے‘۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے اکیڈمی میں کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے پر کیڈٹس اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہاں دنیا کی بہترین افواج کا حصہ بنے ہیں جنہوں نے عظیم فوجی رہنما پیدا کیے‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات دوستی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان بہترین دفاعی تعلقات پائے جاتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ آج اکیڈمی میں میری موجودگی پاکستان اور برطانیہ کے مشترکہ تعلقات کا ثبوت ہے، امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی بلندیوں کو چھوئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح دونوں مسلح افواج کے درمیان تعلق منفرد نوعیت کا ہے اور فوجی تربیت اور دیگر عسکری سرگرمیوں میں قریبی پیشہ ورانہ رابطے کے ذریعے برسوں سے اسے زندہ رکھا گیا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ سب پر بڑی ذمہ داریاں اور اہم توقعات وابستہ ہوں گی، ان کا کہنا تھا کہ عصر حاضر کے چیلنجر سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’آپ کا آئندہ سفر مشکل مگر دلچسپ بھی ہوگا، جیسے جیسے آپ آگے بڑھیں گے، آپ سے پیشہ ورانہ مہارت کی امیدیں بھی بڑھیں گی‘۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پیشہ ورانہ علم کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے وقت کے ساتھ ساتھ حاصل کرنا پڑتا ہے، اس کے بغیر آپ پیشہ ورانہ اعتماد حاصل نہیں کر سکتے جو کہ کامیاب فوجی قیادت کی پہچان ہے، پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی کی قوت بھی بہت اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’آپ میں فیصلے لینے اور ان کی مکمل ذمہ داری قبول کرنے کا عزم ہونا چاہیے، اس کے لیے اعتماد اور قابلیت کی ضرورت ہوگی‘۔ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ آج مسلح افواج کی بنیادی ذمہ داری جنگیں جیتنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جنگوں کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس کا دارومدار ہماری اجتماعی صلاحیت پر ہے کہ ہم اکٹھے ہوں اور تصادم کے بجائے امن اور تعاون کا راستہ اختیار کریں، تصادم کے بجائے روابط مضبوط کریں اور ذاتی تحفظ کے بجائے کثیرالجہتی تحفظ کا راستہ اختیار کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کی خاطر ہمیں بین الاقوامی مشترکات کے اجتماعی دفاع پر اتفاق رائے اور بین الاقوامی قانون کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر ہم اس میں ناکام ہوئے تو یہ اس خوبصورت دنیا کی تباہی کا سبب بنے گا۔تقریب سے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کیڈٹس کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ عزت، وقار اور فخر کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کریں گے۔بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے مختلف کیڈٹس سے گفتگو بھی کی اور ان کے جذبے کو سراہا۔خیال رہے کہ برطانوی کیڈٹس کے علاوہ 26 ممالک کے 41 بین الاقوامی کیڈٹس نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کی، پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کے 2 کیڈٹس عبداللہ اور مجتبیٰ بھی پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس میں شامل تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچے تھے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف رائل ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے لیے برطانیہ پہنچے ہیں، دورے کے دوران وہ برطانوی عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ (آر ایم اے ایس) برطانیہ کی متعدد فوجی اکیڈمیوں میں سے ایک ہے اور یہ برطانوی فوج کے افسران کا ابتدائی تربیتی مرکز ہے۔برطانوی فوج کے تمام افسران سمیت بیرون ملک مقیم دیگر مرد اور خواتین افسران اس اکیڈمی سے تربیت یافتہ ہیں۔یاد رھےکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 03 اپریل 2017 کو پاکستان کے آرمی چیف کی حیثیت سے پہلا دورہ برطانیہ کیاتھا فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ ہر سال باقاعدہ دورے پر آتے رہے ہیں، تاہم کورونا وبا کی وجہ سے وہ گزشتہ 2 برسوں میں سینڈ ہرسٹ کا دورہ نہ کر سکے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریئر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ سے اکتوبر 1980ء میں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکا کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری اسکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں, آرمی چیف دورے کے دوران برطانیہ کی عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ برطانوی چیف آف جنرل سٹاف جنرل سر پیٹرک سینڈرز 1941 کے بعد سے یورپ میں ایک براعظمی طاقت پر مشتمل زمینی جنگ کے سائے میں فوج کی کمان سنبھالنے والے پہلے چیف آف جنرل اسٹاف ہیں,ہندوستانی فوج تقسیم ہند سے قبل برطانیہ کی فوج ہوا کرتی تھی۔ اس کا کام ہندوستان اور دیگر ریاستوں کی حفاظت کرنا ہوتا تھا جن کی بعض اوقات اپنی فوجیں بھی ہوا کرتی تھیں,برطانوی ہندی فوج سلطنت برطانیہ کی اہم عسکری فوج تھی جن کی خدمات ہندوستان اور اس سے باہر بھی موجود تھی خاص کر جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم میں اس فوج نے برطانوی مفادات کا خوب دفاع کیا۔ یہ نام سرکاری سطح پر 1895ء میں استعمال کیا گیا ۔1903ء میں ہندوستانی فوج میں مزید تین افواج کو شامل کیا گیا۔ یہ فوج آرمی آف انڈیا (جس میں برطانوی انگریز اور ہندوستانی فوج دونوں شامل تھی )سے الگ فوج تھی . اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےاس دورے سے پاک فوج اور ملک و قوم کے وقارمیں اضافہ ہوگا , افواجِ پاکستان نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سبز ہلالی پرچم کوہمیشہ سربلند رکھا ہے اور پاکستان کا نام روشن کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ملک کے اندر قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی ایسے عفریت کا سامنا یا پھر بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات سرانجام دینے کا مرحلہ ہو افواجِ پاکستان الحمدﷲ منفرد مقام پر کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ یوں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ اہلیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیاجاتا ہے کہ پاک فوج مختلف عسکری مقابلوں میں انعامات حاصل کرنے کے حوالے سے ایک بھرپور شناخت رکھتی ہے۔آرمی چیف رائل ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہونگےرائل ملٹری اکیڈمی سینڈورسٹ عام طور پر صرف سینڈھرسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ، برطانیہ کی متعدد فوجی اکیڈمیوں میں سے ایک ہے اور یہ برطانوی فوج کا ابتدائی افسر تربیتی مرکز ہے۔ یہ برک شائر کے ایک قصبے سینڈرسٹ میں واقع ہے ، اگرچہ اس کا رسمی داخلہ لندن کے جنوب مغرب میں کیمبرلے سے ہوتا ہے۔ برطانوی فوج کے تمام افسروں کے ساتھ ساتھ تمام غیر ملکی مرد و خواتین بھی اکیڈمی میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ سینڈرسٹ بریٹیانہ رائل نیول کالج اور رائل ایئر فورس کالج کرین ویل کے برابر برطانوی فوج کا تربیتی ادارہ ہے۔ ان فوجی اکیڈمیوں کے کچھ فارغ التحصیل برطانیہ کی ڈیفنس اکیڈمی میں مزید تعلیم حاصل کرتے ہیں۔پاک فوج کے میجر عقبہ حمید ملک کو برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں پہلا پاکستانی انسٹرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ میجر عقبہ کا تعلق پاک فوج کی سندھ رجمنٹ سے ہے. انہوں نے شہزادہ ولیم کے ساتھ 2007 میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ ہی سے گریجویشن مکمل کی تھی اور اپنی بہترین کارکردگی کے باعث اعزازی تلوار (سورڈ آف آنر) بھی حاصل کی تھی۔ سینڈہرسٹ اکیڈمی سے تربیت مکمل کرنے کے بعد عقبہ پاکستان واپس آئے اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں حصہ لیا۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں انہیں پلاٹون کمانڈر کا عہدہ دیا گیا ہے اور ان کی ذمہ داریوں میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے نوجوان کیڈٹس کو پیشہ ورانہ تربیت دینا شامل ہے۔میجر عقبہ ملک 1741 سے اب تک 275 سال میں برطانوی فوج میں کسی ریگولر کمیشننگ کورس کےلئے انسٹرکٹر اور کمانڈر کے طور پر خدمات فراہم کرنے والے پہلے مسلمان افسر بھی رہے ہیں۔خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان کی سرپرستی میں،31 جولائی، 2022 کو خلیفہ ایمپاورمنٹ پروگرام کے زیراہتمام “مستقبل کے لیڈروں کو بااختیار بنانے” کے منصوبے کے چوتھے ایڈیشن کا برطانوی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا سمر کیمپ کا مقصد مستقبل کے رہنماوں کو دنیا کے بہترین اداروں میں سے ایک سے میں قیادت کرنے کی صلاحیتوں اور ذاتی مہارت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرناتھا ایمریٹس نیوز ایجنسی ,امارات نیوز ایجنسی (وام ) کے مطابق اقدر کی زیر نگرانی یہ کیمپ 31 جولائی سے 15 اگست تک جاری رہا اور اس میں 104 مرد اور خواتین شرکاء، بشمول برطانوی طلباء اپنے متحدہ عرب امارات کے ساتھیوں کے ساتھ شریک رہے ہیں ،اس کیمپ کا مقصد نوجوانوں کے درمیان بین الاقوامی تبادلوں کی سہولت فراہم کرتے ہوئے علم، تجربات کا تبادلہ اور کئی اہم موضوعات پر مکالمے کو فروغ دینا ہے. اس کیمپ کا انعقاد مشہور سینڈہرسٹ اسٹیبلشمنٹ کے ماہرین تعلیم اور ماہرین کی نگرانی میں کیا گیا ۔ کیمپ کے شرکاء میں ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کی ملٹری اور پولیس اکیڈمیوں کے طلباء کے علاوہ ، زاید II ملٹری اکیڈمی، خلیفہ بن زاید ایئر اکیڈمی، سعید بن راشد نیول اکیڈمی کے علاوہ اماراتی نوجوانوں کے گروپ بھی شامل رہے ہیں اس اقدام کا مقصد پریشر اور لیڈرشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت اماراتی نوجوانوں کو بہترین قیادت اور عسکری اداروں کے ماڈل سے متعارف کرانے،خواہشات کے حصول کے لیے اعتماد سازی، قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے جن میں گفتگو کی صلاحیت، ایکٹو لسننگ اور کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اس سے شرکاء کو چیلنجوں پر قابو پانے، قیادت اور فوجی مہارتوں پر زور دینے کے ساتھ ساتھ متعلقہ اقدارکو پہچاننے کا موقع ملے گا۔اس سے پہلے 14 اپریل 2012 کوبرطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سیندھرٹ میں پاکستانی کیڈٹ طلحہ زاہد نے اعزازی شمشیر حاصل کر کے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا طلحہ زاہد نے میٹرک جہلم اور ایف ایس سی گجرانوالہ سے پاس کی تھی ۔ جس کے بعد سلیکشن پاکستان ملٹری اکیڈمی کے لیے ہوئی۔ جہاں سے طلحہ زاہد کا مخصوص کوٹے پر برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی کے لیے انتخاب ہوا تھا ۔طلحہ زاہد نے اعزازی شمشیر کے علاوہ جنگی مہارت کے علوم اور دفاعی امور کے میدان میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی تھی فیصل آباد کے رہائشی طلحہ زاہد کے والد زاہد حسین اکیس رجمنٹ پنجاب میں تعینات رہے ہیں,طلحہ زاہد کے چھوٹے بھائی اسامہ زاہد نے بھی ایم اے کاکول میں بہترین کیڈٹ کی حیثیت سے نو گولڈ میڈل اور دو سلور میڈل جیتے ,ماضی میں برطانیہ میں پیس سٹکنگ کمپیٹیشن میں پاک فوج کی ڈرل ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ مقابلے دنیا کی مشہور و معروف اعلیٰ ترین فوجی درسگاہ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ، برطانیہ میں منعقد ہوئے۔ فوجی ٹیم پاکستان کی اعلیٰ ترین فوجی درسگاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی نمائندگی کررہی تھی۔ بنیادی طور پر اس بین الاقوامی ملٹری ڈرل مقابلے کو’ قدم ناپ چھڑی’ ‘پیس سٹکنگ کمپیٹیشن اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ مقابلہ برطانیہ رائل رجمنٹ آف آرٹلری نے1852 میں کریمین جنگ کے بعد توپخانے کو فوجیوں کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے شروع کیا۔ جس کا مقصد توپخانے کے سپاہیوں کو توپوں اور بندوقوں کے درمیان واقع فاصلے کی پیمائش کا صحیح اندازہ لگانا سمجھانا تھا۔ بعدازاں یہ مقابلہ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ میں صوبیدار میجرجان لارڈ کی سربراہی میں 1952 میں شروع ہوا اور 2002 سے اس مقابلے میں برطانوی دستوں کو بھی دعوت دی گئی۔ تاہم اس مقابلے میں شمولیت کا طریقہ کار کافی مشکل اور ڈرل مقابلے کے معیار پر اُترنے پر منحصر ہے۔ پہلے ٹیم کوابتدائی مقابلہ برطانیہ میں کوالیفائی کرنا ہوتا ہے۔یاد رہے کہ نظم و ضبط کسی بھی فوج میں خاصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جبکہ فوجی پریڈ ، فوجی نظم وضبط کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی فوج کی پریڈ دیکھ کر اس فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور نظم وضبط کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے اورپاکستانی فوج نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ اُمور میں مہارت رکھتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ فوجی ٹیم پاکستان ملٹری اکیڈمی کی نمائندگی کررہی تھی۔ جس سے دُنیا کو یہ پیغام دیاگیا کہ یہ اعلیٰ ملکی درسگاہ اپنی تربیت میںکس قدرمہارت رکھتی ہے اور بہترین پروفیشنل فوجی آفیسرز تیار کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

DCF 1.0