.آئین پاکستان 1973میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک میں داخلی شورش صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر نکل جائے تو ایمرجنسی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔






آئین پاکستان 1973کے آرٹیکل 232؍ میں لکھا ہے کہ ’’اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان، اس کے کسی حصہ کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے، یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں۔‘‘ ہنگامی صورتحال میں صدر مملکت کو وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم، جہاں خلفشار صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اس صوبے کی اسمبلی سے ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے ایک قرارداد منظور کرانا ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلیاں موجود نہیں کیونکہ انہیں تحلیل کر دیا گیا ہے، اور دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کے مظاہرین پر تشدد ہوکر ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔
آئین پاکستان 1973 میں بتایا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت اپنے تئیں کارروائی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوگا۔ جس وقت ایمرجنسی نافذ ہو، پارلیمنٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کیلئے کسی ایسے معاملے کی نسبت قوانین وضع کرے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہ ہو۔
وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت پذیر ہوگا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیارات کو استعمال کیا جانا ہے۔ آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو تو پارلیمنٹ بذریعہ قانون قومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کر سکے گی، اور وہ توسیع مذکورہ اعلان کے ساقط العمل ہو جانے کے بعد کسی صورت میں بھی6؍ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔
ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صدر کے اعلان کے جاری کیے جانے سے 30؍ دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور وہ دو ماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہو جانے سے پہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو۔ آئین پاکستان 1973 میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو، صدر مملکت بذریعہ فرمان یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ آئین پاکستان 1973 کے حصہ دوم کے باب اول کی رو سے عطا کردہ بنیادی حقوق میں سے ان کے نفاذ کیلئے جن کی فرمان میں صراحت کر دی جائے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق اور کسی عدالت میں کوئی کارروائی جو اس طرح مصرحہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کیلئے ہو یا جس میں ان حقوق میں سے کسی کی خلاف ورزی کے متعلق کسی سوال کا تعین مطلوب ہو، اس مدت کیلئے معطل رہے گی جس کے دوران مذکورہ اعلان نافذ العمل رہے اور ایسا کوئی فرمان پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے بارے میں صادر کیا جا سکے گا۔.




